سید طاہر الموسوی، جامعۃ النجف سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی | امریکا اور ایران کے درمیان دو ماہ تک جاری رہنے والی کشیدہ جنگ کے بعد "شیطان بزرگ" اپنی شکست کو چھپانے کے لیے سرگرداں تھا۔ اس مقصد کے لیے اس نے پاکستان سمیت کئی ممالک سے ثالثی کی درخواستیں کیں۔ آخرکار دونوں فریق جنگ بندی پر رضامند ہوئے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر اتفاق کر لیا۔ طے یہ پایا کہ مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گےلیکن اسلام آباد پہنچنے کے بعد امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے اور دونوں فریق اپنے ملکوں کو واپس لوٹ گئے۔
بعد ازاں امریکا کی منتوں اور ثالثوں کی مسلسل کوشوں کے نتیجے میں ایک بار پھر مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ اس دوران امریکا کی جانب سے ایران پر سے کچھ پابندیاں ہٹانے کے وعدے بھی کیے گئے مگر جیسے ہی رہبر معظم کی تشییعِ جنازہ اور تدفین کا منظر دنیا کے سامنے آیا اور لاکھوں عقیدت مندوں کا سمندر امڈ آیا تو "شیطان بزرگ" کی چیخیں نکل گئیں۔
عوامی جوش و جذبے اور ایمانی قوت کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر اپنے کیے ہوئے وعدوں سے مکر گیا اور ایران پر دوبارہ جنگ مسلط کر دی۔اس پورے واقعے سے ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ کافر کبھی بھی اسلام اور مسلمانوں کا بھلا نہیں چاہتے۔ ان کی فطرت میں عہد شکنی اور دھوکا شامل ہے۔
دوسری جانب تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی اسلام کے مجاہدین کبھی دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتے۔ ان کا رابطہ کربلا سے جڑا ہوا ہے۔ کربلا والوں نے دشمن کے آگے سر تو کٹوا دیے، لیکن کبھی اپنا سر نہیں جھکایا۔
یہی درس آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔عہد شکنی شیطان بزرگ کا پرانا وتیرہ ہے۔ مذاکرات، وعدے اور معاہدے اس کے لیے صرف وقتی ہتھیار ہیں جنہیں وہ ضرورت کے وقت استعمال کر کے پھینک دیتا ہے۔ اس لیے امت کو چاہیے کہ وہ دشمن کی چالوں کو سمجھے اور اپنے ایمان و اتحاد کو مزید مضبوط کرے۔









آپ کا تبصرہ